The Khawaja
was informed by the governor of Multan that the city was facing complete
destruction by the tartar hordes who had laid a siege to the fort.

He went
up to the ramparts of the fort and saw the vast hordes who were spread as far
as eyes could see.

He ordered
the bowmen to shot arrows and himself prayed to Allah Almighty. This done, the
enemy troops were in total disarray.

downpour high winds and terrible typhoon descended upon them and they dispersed
in confusion leaving the fort alone.

Qutubuddin Bakhtiar Kaki Dehli India

Allah have Mercy on Him)
581 A.H, (1185 A.D)     Death: 634 A.H,
(1236 A.D.)

Bakhtiar Kaki was the favorite disciple of Khawaja Moinuddin Chishti and the
spiritual guide of Khawaja Fariduddin Gunj Shakar.

He belonged
to a Syed family. After memorizing the Holy Quran and completing his religious
education, he became a disciple of Khawaja Moinuddin Chishti who made him his
lieutenant and also permitted him to make his own disciples. 


On the
instructions of Khawaja Moinuddin Chishti, he proceeded to Delhi and stayed
there with Maulana Hamiduddin Nagori. There, he began making disciples and
directing them on to the path of piety and righteousness.

people turned to him and his grace spread to every nook and corner of the
sub-continent. Sultan Shamsuddin Iltutmish was also benefitted from his
personality and attained rare spiritual excellence.

The Sultan’s
devotion to the Khawaja greatly influenced the royal court and the entire
country. The essence of the Khawaja’s teachings was to treat all men with
kindness, and Sultan Iltutmish followed it to the hilt.

But despite
the king’s devotion to him. Khawaja Bakhtiar Kaki did not alter his way of life
even a little bit and remained totally indifferent to money and worldly goods.

His Shrine
is in Dehli (India).

خواجہ صاحب کو حاکمِ ملتان نے بتایا کہ تاتارویوں کے لشکر سے شہر کو مکمل تباہی کا سامنا ہے اور تاتاری فوج قلعے کا محاصرہ کیے 
ہوئے ہیں. آپ نے قلعے کی فصیل پر جاکر لشکر کو دیکھا، جو حدِ نظر تک پھیلا ہوا تھا۔
 آپ نے تیر چلانے کا حکم دیا اور دعا فرمائی. تیر چلے تو لشکر میں ہلچل مچ گئی اور زبردست طوفانِ باد و باراں آیا، تاتاریوں کے
 لشکر میں سخت ابتری پھیل گئی اور وہ حملہ کیے بغیر بھاگ گیا۔
 خواجہ قطب الدّین بختیار کاکی (رحمۃ اللہ علیہ)
 ولادت: ۵۸۱ھ مطابق: ۱۱۸۵ء وصال: ۶۳۴ھ بمطابق: ۱۲۳۶ء 
خواجہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، خواجہ معین الدین چشتی کے مرید خاص اور خواجہ فرید الدین گنج شکر کے پیرومرشد تھے۔ آپ کا تعلق خاندانِ سادات سے تھے.
قرآن پاک حفظ کیا اور علوم دینی کی تحصیل کی. خواجہ معین الدین چشتی ؒ سے بیعت ہوئے اور اجازت و خلافت حاصل کی۔
خواجہ صاحب کی ہدایت پر دہلی تشریف لے گئے اور مولانا حمید الدین ناگوری کے ہاں قیام فرمایا۔ یہاں آپ نے سلسلۂ بیعت کا آغاز کیا اور رشد و ہدایت کا کام شروع کیا۔
بکثرت لوگ آپ کی جانب رجوع ہوئے.
برصغیر کے گوشے گوشے میں آپ کا فیض پہنچا. سلطان شمس الدین التتمش نے بھی آپ ہی کی ذات بابرکت سے فیض حاصل کیا اور اس کمال کو پہنچا کہ باید و شاید سلطان التتمش نے خواجہ صاحب سے جو عقیدت پیدا کرلی تھی، شاہی دربار پراس کا بہت اچھا اثر اور پھر وہ اثر ملک گیر ہوا۔
خواجہ صاحبؒ خلقِ خدا سے حسنِ سلوک کی تلقین فرماتے رہتے تھے، اور سلطان التمش اس پر کاربند رہتا تھا. مگر بادشاہ کی اس عقیدت کے باوجود خواجہ بختیار کاکیؒ نے زندگی کا انداز بالکل تبدیل نہ کیا اور مال و متاع سے بے نیازی کے سبب ان کے گھر میں ہمیشہ عسرت و تنگ دستگی رہی۔
آپ کا مزار دہلی (بھارت) میں واقع ہے۔