During the last stage of his life, the Shah selected a good site and founded a new human settlement. He participated in its construction as a laborer. 

Houses in the settlement have been built on dunes. In the beginning, it was called “Bhatt Shah Abdul Latif” but later it came to be known only as “Bhatt Shah”. 


Shah Abdul Latif Bhattai (May Allah Have Mercy on Him). 

Birth: 1102 A.H, (1689 A.D.) Death: 1165 A.H, (1752 A.D.)
Shah Abdul Latif Bhattai (Bhitai) belonged to a well-known family of Syeds. Early in life, he migrated to Kotri (Sindh Pakistan) from Bala Haveli and then, in the tradition of holy men, set out in search of truth and embarked on extensive travels for getting acquainted with saintly persons. 

He journeyed to Multan, Jaisalmer, Lasbela, Makran, Kutch, and the Kathiawar region and drew inspiration from religious personages. He lived in a very important period of the political history of Sindh. 

He was a storehouse of knowledge and wisdom., and in his famous poetical works Shah Jo Risalo, (magazine) he has expatiated with abandon on mysterious and revelations. He was a poet of love. He showed people the way to nearness to Allah Almighty and warmed their hearts with the love of the Holy Prophet of Allah(peace be upon him). 

He gave mankind the message of compassion, large-heartedness, vision, and love. During his time, the great controversy was raging among the religious scholars of Sindh over such matters as linage and caste. He, therefore, waged a war against such misleading concepts and also eradicated many un-Islamic practices. 

He selected a site near Kotri and founded a new settlement there. The place came to be known as “Bhatt Shat” or (Bhit Shah), where his grave (Tomb) is also situated and visited by the populace.
شاہ صاحب نے اپنی عمر کے آخری حصّے میں کوٹری کے قریب ایک اچھی جگہ منتخب کرکے ایک نئی آبادی کی بنیاد رکھی. اس کی تعمیر میں آپ خود بھی ایک مزُدور کی طرح شریک ہوئے. آبادی کے مکانات ریت کے ٹیلوں پر بناۓ گئے تھے. آبادی پہلے “بھٹ شاہ لطیف” کہلائی اور بعد میں صرف “بھٹ شاہ” کے نام سے معروف ہوئی۔ 

 شاہ عبد الطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ 

  ولادت: ۱۱۰۲ھ مطابق ۱۶۸۹ٔء وصال: ۱۱۶۵ھ بمطابق ۱۷۵۲ء

 شاہ عبد الطیف بھٹائی سادات کے ایک معروف گھرانے سے تعلق رکھتے تھے. شاہ صاحب ابتدائی عمر ہی میں بالا حویلی سے کوٹری چلے آئے اور پھر تلاشِ حق کے سلسلے میں بزرگوں کے قاعدے کے مطابق خدا رسیدہ ہستیوں سے متعارف ہونے کے لئے سیر و سیاحت کو نکلے اور ملتان، جسیلمیر، لسبیلہ، مکران، کچ اور کا ٹھیاواڑ کے علاقوں میں گئے اور بزرگانِ دین سے کسبِ فیض کیا۔

 شاہ صاحب نے سندھ کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم دور میں زندگی گزاری. ان کا سینہ علم و دانش کا خزینہ تھا. انہوں نے اپنے مشہور دیوان “شاجو رسالو” میں اسرار و معارف کے دریا بہائے ہیں. وہ شاعرِ محبت تھے۔

انہوں نے بندوں کو خدا کے قریب ہونے کی راہ دکھائی اور دلوں کو عشق رُسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گرما دیا. انہوں نے عالمِ انسانیت کو درد مندیً وسعت فکر و نظر اور محبت کا درس دیا۔ 

اس زمانے میں علماء سندھ کے درمیاں حسب نسب اور ذات پات کے تصّوارات پر بڑے اختلافات پیدا ہو گئے تھے. شاہ صاحب نے ان گمراہ کُن تصوارات کے خلاف جہاد کیا اور بہت سے غیر اسلامی رسُوم کا خاتمہ کیا. آپ نے کوٹری کے قریب ایک جگہ منتخب کرکے ایک نئی آبادی کی بنیاد رکھّی۔

 وہ جگہ “بھٹ شاہ” کے نام سے معروف ہوئی اور وہی شاہ صاحب کا مزار زیارت گاہِ خلائق ہے۔